وَّلٰـكِنَّ اللّٰهَ يُزَكِّىۡ مَنۡ يَّشَآءُؕ
وہ تھکی ہوئی تھی, دُنیا اور آخرت کے درمیان ایک سیدھی لائن رکھتی رکھتی, اپنے عمال کا حساب رکھتے ہوۓ اور سہی اور غلط کے درمیان فرق کرتے کرتے, دل تھا کہ کھچتا تھا اُن باتوں کی طرف جو منع ہیں اور دماغ تھا جو سورۃ نور پہ اُٹکا تھا, ایک ایک آیت تنبیہ کرتی دکھتی تھی, اور ہر نشانی اُسی کی نشانی, ماصْی تھا کہ جان نہیں چھوڑتا تھا پُرانی باتیں پُرانے گُناہ جو بار بار سامنے آتے تھے ,ایک ڈر کہ کہیں وہ سب عیاں نا ہوجاۓ جو وہ آج تک چُھپاتی رہی تھی, وہ خوف کہ کوئی اُسے اچھی لڑکی نہیں سمجھے گا, کوئی اُسکی عزت نہیں کرے گا, اُسے لوگ اپنی طرف انگلیاں اُٹھا اُٹھا کے اشارے کرتے دکھنے لگے, پریشانی حد سے سوا ہوئی اور بےبسی بے رنگ سیال کی صورت آنکھوں سے بہنے لگی, وہ کیا کیا کرتی رہی تھی, کتنا خفا کیا ہوگا خُدا کو اُس نے, بستر پہ پڑی پڑی سمٹنے لگی, دماغ کی نسیں تن گئیں, سر درد سے پھٹنے لگا, ایسے میں اُسے سورۃ نور یاد آئی,کہیں سُن رکھا تھا کہ قُرآن مکمل ایک دُعا ہے اُسکی سب آیات دُعا ہیں, تکلیف کی شدت اس قدر تھی کہ قُرآن کھول بیٹھی, درد دل اور دماغ اور نسوں میں بڑھتا جاتا تھا, روتی جاتی سورۃ تلاش کرتی جاتی, ہچکیوں کے درمیان سورۃ نور کھولی
آیت نمبر اکیس "وَّلٰـكِنَّ اللّٰهَ يُزَكِّىۡ مَنۡ يَّشَآءُؕ" ترجمہ"اور وہ جسے چاہتا ہے پاکیزگی عطا کرتا ہے"
اس آیت پہ ہاتھ کانپے زبان اٹکی اور وہ سجدے میں گر گئی زبان پہ صرف ایک ہی آیت تھی جو دل میں سکون بھر رہی تھی جیسے اللہ نے ہمت تھمائی ہو کہ میں معاف کرنے والا ہوں اور سنتا جانتا ہوں, روتی جاتی آیت دوہراتی جاتی,
وَّلٰـكِنَّ اللّٰهَ يُزَكِّىۡ مَنۡ يَّشَآءُؕ
وَّلٰـكِنَّ اللّٰهَ يُزَكِّىۡ مَنۡ يَّشَآءُؕ
وَّلٰـكِنَّ اللّٰهَ يُزَكِّىۡ مَنۡ يَّشَآءُؕ
ایک بار دو بار تین بار جانے کتنی بار کہا, گنتی بھول گئی, آس پاس بھولنے لگا, سکون ملنے لگا, نسوں میں دوڑتا درد کم ہونے لگا, وہ با آواز بلند دوہرانے لگی
اور وہ جسے چاہتا ہے پاکیزہ کردیتا ہے
اور وہ جسے چاہتا ہے پاکیزہ کر دیتا ہے
اور وہ جسے چاہتا ہے پاکیزہ کر دیتا ہے
بلند سے بلند تر کمرے میں بس اُسی کی آواز گونج رہی تھی وہ لاشعوری طور پہ خود کو اپنے دل کو اور اپنے کمرے میں موجود ہر ہر جاندار(جن,ہمزاد) اور بے جان میز, کرسی بستر, الماری سب کو سُنا رہی تھی اور خود کو بھی.
طوفان تھم چُکا, سکون بخش دیا گیا, گُناہ کا پچھتاوہ کم ہونے لگا اور ہوتے ہوتے ریت کے زرہ کی مانند ہو گیا, وہ پھر سے ہلکی پھلکی تھی.
اور جب گُناہ معاف کردیا جاۓ تو خُدا اُس گُناہ کی یاد بھی مٹا دیتا ہے
"نمرہ احمد"
Comments
Post a Comment